اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یورپ تک سائنسی علوم عرب دنیا سےمنتقل ہوئے جنہوں نے خود یہ علوم قدیم یونانیوں ، فارسیوں ، چینیوں اور ہندوؤں کی کتب سے اخذ کئے تھے۔ بہرحال یہاں بھی سارا کریڈٹ مغرب ہی کو جاتا ہے جس نے اس علم کے خزانے کی بنیاد پر جدید سائنسی نظام بنایا۔ جو مسلمانوں کے نظام کی طرح منجمد...
قرآن ، بائبل، گیتا وغیرہ سے ’’سائنس‘‘ اخذ کرتے وقت آپکو ’’تشریح‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ تشریح کرنے والا کوئی سائنسدان تو ہوتا نہیں۔ زمانہ قدیم سے یہ تشریحات ہزاروں بار بدلی گئیں۔ دور حاضرکے تقاضوں کے مطابق اگر انہیں سائنسی کر دیا گیا ہے تو اسمیں کیا خاص بات ہے؟
اگر غیر مسلم اقوام اسلام پر رتی برابر بھی نہ چلتے ہوئے نت نئی سائنسی دریافتیں، ایجادات اور ترقیات کرتی چلی جا رہی ہیں تو ایسے میں خرابی مسلمانوں کا اسلام پر نہ چلنا ہرگز نہیں ہے۔
اسے جادو ٹونا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بھی عقل سے ماورا ہوتا ہے اور سب اسکا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ البتہ پیچھے وہی انسانی ٹرکس ہی کارفرما ہوتی ہیں جیسے نظر کا دھوکہ۔
1965 میں کاسمک بیک گراؤنڈ تابکاری کا پہلی با رمشاہدہ کیا گیا اور 1978 میں جا کر ان سائنسدانوں کو نوبیل انعام سے نواز گیا۔ 1989 میں ناسا نے اس تابکاری پر مزید تحقیق کیلئے ایک سیٹلائٹ خلا میں بھیجا۔
تمام سائنسدان متشکک ہوتے ہیں۔ ہر نئے دعوے کو تشکیک کے کٹھن مرحلہ سے گزارے بغیر آنکھیں بند کر کے تسلیم نہیں کرتے۔ 20 ویں صدی کے عظیم ترین سائنسدان آئن اسٹائن کے سائنسی نظریات کو تسلیم کرنے میں ایک عرصہ لگ گیا تھا۔
آپکے انکار سے امریکہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے پاس چاند سے لائی گئی مٹی کے سیمپل آج بھی موجودہیں۔ آپکے پاس اسکی نفی میں کونسا مادی اثبوت ہے؟ ایک مرے ہوئے آدمی کے من گھڑت دعوے؟
ایک خدا پر ایمان لانے سے تمام مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ نت نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جن ممالک میں سائنس سے زیادہ دینیات و مذاہب کو فوقیت دی جاتی، ان معاشروں کی ترقی کا موازنہ ان ممالک سے کر لیں جو سائنس و منطق کے اصولوں پر چل رہے ہیں۔ فرق روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ مشرقی ایشیائی ممالک نے اہل مغرب سے...
سائنس کی رو سے کائنات بگ بینگ سے لیکر اب تک پھیل رہی ہے، لا محدود نہیں ہے۔ باقی کائنات میں موجود تابکاری ماپنے کیلئے ریڈیو خورد بین استعمال کی جاتی ہے:
سائنسی کمیونیٹی کے مابین بھی مختلف امور پر اتفاق یا اختلاف پایا جاتا ہے۔ البتہ دیگر کمیونیٹیز کی نسبت سائنسدان اس اختلاف کو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ مزید تجربات و مشاہدات کی قوت سے اتفاق میں تبدیل کرتے ہیں۔
اسکی ایک مثال Cold fusion ہے جسے چند نامور سائنسدانوں نے 1989 میں دریافت کرنے کا دعویٰ...
لیکن یہاں فرق یہ ہے کہ ان قیاس آرائیوں سے بہت سے دیگر لاحل سائنسی مسائل حل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ یعنی کہ یہ قیاس غلطی پر نہیں ہے، روز بروز مزید تقویت پکڑ رہا ہے۔