دنیا کی سب سے مہنگی دوا، قیمت 30 کروڑ روپے فی خوراک
ویب ڈیسک پير 27 مئ 2019
تصویر میں دکھائی دینے والی دوا کا نام زولجینسما ہے اور اس کی قیمت 30 کروڑ روپے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سوئزرلینڈ: اوپر موجود تصویر میں آپ جو دوا دیکھ رہے ہیں وہ اس جسامت میں دنیا کی قیمتی ترین شے سے بھی قیمتی ہے، اس دوا...
ریختہ والوں نے جس طرح دنیا کےسب سے بڑے اور جامع آن لائن کتب خانہ کو بنانے کیلئے دن رات کام کیا ہے۔ اس کا تھوڑا سا معاوضہ دے دینے سےہمارا بینک اکاؤنٹ خالی نہیں ہو جائے گا۔
دراصل مسئلہ وہی پرانا ہے۔ ہمیں اردو فانٹس سے لے کر اردو ادب تک ہر چیز مفت میں چاہئے۔ اور اس مفت خوری کے بعد بھی جو اردو کا...
چلیں پاکستان کی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن جیتنے والے دھاندلی اور بکسہ چوروں کی پیداوار ہیں۔
مگر جو بھارت، اسرائیل، امریکہ، ترکی اور روس میں ڈکٹیٹر نما جمہوری لیڈر دھڑا دھڑ عوامی ووٹوں سے منتخب ہو رہے ہیں۔ اس کا کیا جواز ہے؟
وزارت دفاع میں جا کر موصوف شور مچائیں گے کہ پاکستانی اسلحہ اور جنگی سازو سامان بابائے آدم کے زمانہ کاہے۔ بھارت کی طرز پر اسرائیل سے جدید ترین ہتھیار امپورٹ کریں۔ :)
فواد چوہدری کو جس منسٹری میں چھوڑا جاتا ہے یہ وہاں جا کر انقلاب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بطور انفارمیشن منسٹر پی ٹی وی میں جدید کیمرے، پروڈکشن سسٹمز ، نئے چینلز متعارف کروا رہے تھے مگر ایم ڈی سے لڑائی ہوگئی اور وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔
اب سائنس کی وزارت ملتے ہی علما کرا م سے لڑ پڑے ہیں۔ اگلی...
مختلف مسیحی فرقے بھی کم از کم اپنی عید کرسمس اکٹھے ایک ہی دن کر لیتے ہیں۔
وزیر سائنس نے ایک کوشش کی تھی کہ ملک میں اس حوالہ سے ہم آہنگی پیدا ہو۔
البتہ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک اور عید ایجاد ہو گئی :)
مودی، ٹرمپ، پوٹن، عمران ، نتانیاہو سب کے سب الیکشن لڑ کر اقتدار میں آئے ہیں۔ ان لبٹرڈز کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو جمہوریت کی بقا کیلئے انتخابات کروانے کا تو بہت شوق ہے البتہ نتائج اپنی پسند کے نہ آنے پر اسے اکثریت کا جبر قرار دیتے ہیں۔
معلوم نہیں نادرا نے کونسا سسٹم اڈاپٹ کیا ہے یا خود بنایا ہے۔ مغربی ممالک میں تو زیادہ تر تاریخ پیدائش کے بعد صرف 6 یا 7 کمپیوٹر جنریٹڈ رینڈم نمبرز ہوتے ہیں۔
اس کا مقصد محض ڈیجیٹل شناخت ہے۔باقی تمام ڈیٹا تو کمپیوٹر ڈیٹابیس میں ہی ہوتا ہے۔
آئی ڈی نمبر طویل اور پیچیدہ رکھنے سے یونیک رہتا ہے۔ وگرنہ آسان نمبر کے ڈپلیکیٹ بن سکتے ہیں۔ جس سے شناخت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
سسٹم کا انحصار اسی بنیاد پر ہے کہ ہر شہری کا نمبر دوسرے سے الگ ہو۔