مشورے
پیری:
یہ آندھی، یہ طوفان، یہ تیز دھارے
کڑکتے تماشے، گرجتے نظارے
اندھیرے فضا سانس لیتا سمندر
نہ ہمراہ مشعل، نہ گردوں پہ تارے
مسافر! کھڑا رہ ابھی جی کو مارے
شباب:
اسی کا ہے ساحل اسی کے کگارے
تلاطم میں پھنس کر جو دو ہاتھ مارے
اندھیری فضا سانس لیتا سمندر
یونہی سر پٹکتے رہیں گے یہ دھارے
کہاں...