توجہ دلانے کا شکریہ سلمان دانش بھائی۔ واقعی اس مصرعے میں "کچھ" لکھنا رہ گیا۔ اس غلطی پہ معافی کا خواستگار ہوں۔ مزید پشیمانی اس بات کی ہے کہ کیفی اعظمی کی تمام شاعری میں سے یہ میرا پسندیدہ ترین شعر ہے اور اسی میں غلطی ہو گئی۔
بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں
میں کہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے
اصل پوسٹ...
چراغاں
(آزادی کی چھبیسویں سالگرہ کے موقع پر)
ایک دو بھی نہیں چھبیس دیئے
ایک اک کر کے جلائے میں نے
اک دیا نام کا آزادی کے
اس نے جلتے ہوئے ہونٹوں سے کہا
چاہے جس ملک سے گیہوں مانگو
ہاتھ پھیلانے کی آزادی ہے
اک دیا نام کا خوشحالی کے
اس کے جلتے ہی یہ معلوم ہوا
کتنی بد حالی ہے
پیٹ خالی ہے مرا،جیب مری...
دعوت
کوئی دیتا ہے در دل پہ مسلسل آواز
اور پھر اپنی ہی آواز سے گھبراتا ہے
اپنے بدلے ہوئے انداز کا احساس نہیں
میرے بہکے ہوئے انداز سے گھبراتا ہے
ساز اٹھایا ہے کہ کوسم کا تقاضا تھا یہی
کانپتا ہاتھ مگر ساز سے گھبراتا ہے
راز کو ہے کسی ہم راز کی مدت سے تلاش
اور دل صحبتِ ہم راز سے گھبراتا ہے
شوق...
غزل
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ
گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو
ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ
منزل سے وہ دور تھا اور ہم بھی دور تھے
ہم نے بھی دھول اڑائی بہت رہنما کے ساتھ
رقصِ صبا کے جشن میں ہم تم بھی ناچتے
اے کاش تم بھی آ گئے ہوتے صبا کے...
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ جنابِ عالی
تحریر کو بہتر کرنے کے دو پہلو ہیں۔
ایک یہ کہ تحریر کی انشاپردازی و زباندانی کا معیار بہتر ہونا۔
دوسرا یہ کہ تحریر کے معانی و مطالب کا محرر کے اصل خیالات کی عکاسی کرنا۔ یعنی جو محرر کے دل میں ہے، تحریر سے بھی وہی مطلب سامنے آئے۔
نکتۂ اولین کے لئے...
دورانِ تنصیب کہیں سی ڈی سے چلانے کی آپشن تو نہیں دے دی؟ اگر ایسا ہے تو اس کی بجائے سسٹم سے چلانے کی آپشن دیجئے۔ امید ہے کہ افاقہ ہو گا۔
اگر اس کے علاوہ کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس کے لئے ذہنی آزمائی کرنی پڑے گی۔
اعلیٰ ہے جناب۔
فعلن کہے یہ بات ہے اس کی واپس کوئی نہ آئے گا
ایک ہزار برس بھی جی لے پھر بھی تو مر جائے گا
یا
فعلن فعلن کردی نی میں آپے فعلن ہوئی
سدو نی مینوں دھیدو فعلن۔۔۔۔۔۔۔۔
وغیرہ وغیرہ
ویسے اسی سے یاد آیا کہ "فِٹ" بھی ایک عمدہ تخلص ہے اور تقریباََ تمام ہی بحور میں فِٹ آ سکتا ہے۔ بلکہ دیکھا جائے تو مِس فِٹ میں فِٹ قرار واقعی فِٹ ہے۔
مثال کے طور پر
ہزار ہا شجرِ سایہ دار رہ میں فٹ
یا
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے فٹ
وغیرہ وغیرہ
بازو کا ایسے کاٹا جانا افسوس ناک واقعہ ہے۔ لیکن دیگر لوگوں کی جانب سے اس کو سراہا جانا یا اس کا دفاع کرنا شرم ناک واقعہ ہے۔
میں ابھی سے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ لوگ اس بچے کے دیدار اور اس کے ودسرے ہاتھ کو چومنے کے لئے جوق در جوق چلے آ رہے ہوں گے۔ اور افسوس ناک یہ کہ وہ اس (یعنی شرفِ دیدار) کو عین...