تصادم
دو نگاہوں کا اچانک وہ تصادم مت پوچھ
ٹھیس لگتے ہی اڑا عشق شرارہ بن کر
اڑ کے پہلے انھیں جھینپی ہوئی نظروں میں رکا
نرم، معصوم، حسیں، مست اشارہ بن کر
پھر نِگہ سے عرق آلود جبیں پر جھلکا
پنکھڑی، پھول، گہر، لعل، ستارہ بن کر
ڈھل کے ماتھے سے اتر آیا گل عارض میں
رنگ، رس، شہد نہیں ان سے بھی پیارا...