میرے خیال میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ کا تقابل کیا جائے تو سب سے بڑا فرق سامنے آتا ہے۔۔ کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس۔
باقی کرپشن سمیت بہت سے معاملات میں دونوں ممالک کے بورڈز ایک جیسے ہی ہوں گے۔
بریتھ وائٹ نے امپائر کو ساتھ ملا کر فائنل کھیلا۔ چھکے لگ نہیں رہے، چھکے لگ چکے ہیں۔ کرکٹ چھوڑو، آؤ دھرنا دھرنا کھیلیں۔ کنٹینر پہ رقص وغیرہ بھی۔۔۔ عمران خان کا بین سٹوکس کو پیغام۔
بلاول زرداری نے بین بھٹو سٹوکس کے لئے خیرسگالی پیغام میں فرمایا کہ۔۔ جب تک سورج چاند رہے گا، بین سٹوکس تیرا نام رہے گا۔ سٹوکس جیسی قربانیوں سے ہی جمہوریت کی شمع روشن ہوتی ہے (اور میرے پاپا کرپشن کر پاتے ہیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔
نواز شریف نے بین سٹوکس کے گھر سے ہیتھرو ایئرپورٹ تک موٹروے اور میٹرو تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔
ساتھ ہی وہاں لوڈ شیڈنگ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا، تا کہ اس کے خاتمے کے وعدے کئے جا سکیں۔
شہباز شریف کی ہمدردی کے لئے بین سٹوکس کے گھر ہیلی کاپٹر پر آمد۔
چھکوں کے ذکر پر خادمِ اعلیٰ کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔
ڈی پی او اور ڈی سی او لندن وغیرہ کو معطل کر دیا۔
بین سٹوکس کو ایک عدد لیپ ٹاپ بھی پیش کیا۔
اگر انگلینڈ میچ جیتتا تو ائن مورگن واحد کھلاڑی ہوتا جو دونوں بار کی چیمپئن ٹیم میں شامل ہوتا۔
ویسٹ انڈیز کے 7 کھلاڑی دونوں دفعہ کی چیمپئن ٹیم میں شامل ہیں۔ جن کے نام یہ رہے
کرس گیل
چارلز
سیموئیلز
براوو
سیمی
رسل
بدری