تقریباً آدھے گھنٹے کی مشکل چڑھائی کے بعد ٹریک کافی آسان ہو گیا۔ دراصل مشک پوری کے کافی نزدیک پہنچ چکے تھے (لیکن اس وقت تک ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، اور ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ابھی کافی راستہ باقی ہے)۔
تقریباً آدھے فاصلے کے بعد اچھی خاصی چڑھائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کو دیکھ کر ہمارے دوست کا کہنا تھا کہ بھائی تیری فارسی نے مروا دیا ہے۔
ہم خود بھی سوچ رہے تھے کہ مولانا رومی صاحب کے تمام ارشادات پہ عمل نہ بھی کیا جاتا تو کام چل ہی سکتا تھا۔