ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے، اماں کے تھے ہی نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا
بال و پر آسماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
اب ہمارا مکان کس کا تھا
ہم کہ اپنے مکاں کے تھے ہی...