غالباً کسی شاعر نے یہ دور کی کوڑی پہلے سے لا کر رکھ چھوڑی ہے۔
درد گر آدمی ہوتا
درد گر آدمی ہوتا
تو گریبان پکڑ کر کہتے
اس طرح رہتے ہیں
بے - چین دلوں کے اندر
اس طرح کرتے ہیں بیماروں سے
دل میں رہنا ہے تو
ٹھیک سے رہنا سیکھو
ہم تمہیں سہتے ہیں
کچھ تم بھی تو سہنا سیکھو
ایک تھوڑی سی خوشی ایسے تو جل...