JavaScript is disabled. For a better experience, please enable JavaScript in your browser before proceeding.
You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser .
جل جلالہ
وہ ربِ جلیل و کبریا حیثیت
چاہے جسے جو کرے عطا حیثیت
جو کچھ ہے جو بھی وہ اس کے فضل سے ہے
از خود ہے کسی کی ورنہ کیا حیثیت
ذاتِ قائم بالذات
وہ مالک کُل ہے ، کائنات اُس کی ہے
جو ختم نہ ہو کبھی ، وہ بات اُس کی ہے
اَعراض وجود میں قائم بالغیر
قائم ہے جو بالذات وہ ذات اُس کی ہے
اصلی داتا سے مانگ
رزاقِ جہاں رب تعالی وہ ہے
جواد و غنی ، بر تر و بالا وہ ہے
کیوں مانگ رہا ہے مانگنے والوں سے
اللہ سے مانگ! دینے والا وہ ہے
اے میرے خالق و مالک
کیوں بابِ کرم اثر سے خالی جاوں
کیوں آ کے سخی کے گھر سے خالی جاوں
جب تو نہیں پھیرتا کسی کو خالی
پھر میںکیوں تیرے در سے خالی جاوں
یا علی الاعلیٰ
آمین بحق سید المرسلین
دشمن ہے سماج یا علی الاعلیٰ
مشکل میں ہوں آج یا علی الاعلیٰ
زہرا و محمد و علی کے صدقے
رکھ لے مری لاج یا علی الاعلیٰ
بندہ گنہگار کی پکار
حالت ہے تباہ یاعلی ادرکنی
بے حد ہیں گناہ یاعلی ادرکنی
چل جائے مرے حق میں بھی کلکِ رحمت
نامہ ہے سیاہ یاعلی ادرکنی
یارب
ہستی ہے ترے کرم سے یارب! ہستی
معمور تجھی سے ہے بلندی پستی
تیرے ہی نور سے ہے روشن روشن
نگری نگری ہر ایک بستی بستی
عزمِ گدا
جب تک ترے در پہ تھا ، ٹھکانے سے رہا
چُھوٹا تیرا در ، تو بھیک پانے سے رہا
ٹُھکرا کے جو اٹھا دے ، کہ بٹھا لے در پر
میں اب کسی اور در پہ جانے سے رہا
بے ضمیر سائل کا اعتراف
لینے کے لیے جہاں گیا کچھ نہ ملا
دیکھا ، بھالا ، چلا ، پھرا کچھ نہ ملا
پھر بھی ایسے بے ضمیر سائل کو
اک آہ پہ تیرے در سے کیا کچھ نہ ملا
آرزوئے فنا
ہستی کی ہوس نہ آرزو رہ جائے
دل میں نہ مُغائرت کی بو رہ جائے
جس طرح سمندر میں فنا ہو قطرہ
اس طرح مٹوں تجھ پہ ، کہ بس تُو رہ جائے
التجائے عبد
مضمر ہے اسی میں سر بلندی میری
برحق ہے یہ خوئے یک پسندی میری
تو نے ہی مجھے ناز کے تیور بخشے
تجھ ہی سے رہے نیاز مندی میری
اعترافِ حقیقت
خوشنودی ، نہ غم پہ جی رہا ہوں اب تک
بیشی پہ ، نہ کم پہ جی رہا ہوں اب تک
اے میرے کریم ! تیری عزت کی قسم
اک تیرے کرم پہ جی رہا ہوں اب تک
خوشامدی خطیب
منبر پہ یہ نام دے رہا ہے تیرا
جسے کہ پیام دے رہا تیرا
اب واعظِ شہر کو اٹھا لے مولیٰ
بندوں کو مقام دے رہا ہے تیرا
اندیشہ عقبٰی
دل کو کسی مزل ، نہ کسی راہ کا غم
اندیشہ گدا کا ، نہ کسی شاہ کا غم
کس منہ سے تری جناب میں پہنچوں گا
کھاتا ہے بس ایک تیری بارگاہ کا غم
امرِ واقعہ
جب گھیر لیا تھا چیرہ دستوں نے مجھے
جب راہِ فرار دی نہ رستوں نے مجھے
محسوس کیا تیری معیت کا سُکوں
جب چھوڑ دیا تھا خود پرستوں نے مجھے
احسانِ معیت
مایوس ہُوا تو دل بڑھایا تُو نے
ہر طرح کے خوف سے بچایا تُو نے
جب چھوڑ گئے اپنے پرائے مجھ کو
قربان ترے ، ساتھ نبھایا تُو نے
نتیجہ کرم
جس لمحہ ، جدھر بھی ، جس ٹھکانے پہ رہا
ہر دم ترے ساتھ لَو لگانے پہ رہا
حالات نے کچھ دور بھی رکھا ، لیکن
ذہنا تیرے ہی آستانے پہ رہا
بے سہارا ہوں بڑھاپے میں کہاں جاوں نصیر
اب جنازہ ہی اٹھے گا میرا مے خانے میں
معطی حقیقی
ہر طرح کے مفلس و تونگر سے ملا
اِس ٹوہ میں ہر کہتر و مہتر سے ملا
معلوم ہوا کہ سب کا داتا تو ہے
جو کچھ بھی جسے ملا تیرے در سے ملا
اے سب کے رازق!
مشکل میں ترا ہی ساتھ کام آیا ہے
مجھ پہ تیرے ہی فضل کا سایا ہے
اب وقت پڑا تو مجھے دے منہ مانگا
تیرا ہی دیا تو عمر بھر کھایا ہے