آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں شاکر القادری صاحب، خسرو اور نصرت بس یوں سمجھیں کہ دو آتشہ ہے۔ میں نے بھی ایک ہی دفعہ سنی ہے اور بس حسرت ہے۔
لیکن میں اس کمی کو نصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی خسور کی دیگر غزلیں سن کر پورا کر لیتا ہوں، جیسے ایک اوپر گزری ہے، نمی دانم چہ منزل بود
اور ایک لاجواب غزل...