اب کے برس دستورِ ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
فیض، نہ ہم یوسف، نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
۔
مکمل ہونی تو چاہئیے، ویسے کلیاتِ فیض میں سے دو کتابیں اور میرے ذہن میں آئی ہیں۔ مرے دل مرے مسافر، اور غبارِ ایام۔
شام کو گھر جا کر کلیات دیکھوں گا، شاید کوئی اور کتاب بھی ہو۔
۔