نتائج تلاش

  1. محمد وارث

    کون ہے جو محفل میں‌آیا 9

    السلام علیکم فاتح صاحب، امید ہے مزاج بخیر ہونگے۔
  2. محمد وارث

    میں کیا کروں ؟ کون سی نوکری کروں؟

    مجھے انتہائی افسوس ہوا ہے قھار علی شاہ رند صاحب عرف ساغر 786 کہ آپ نے محفل پر توجہ حاصل کرنے کیلیے اس قسم کے واقعات گھڑے اور پھر ان پر ردے کے ردے جما رہے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات وہ ہے جو آپ نے روزے، پانی اور اپنے افسر کے حوالے سے لکھی ہے، اپنی خود ساختہ خؒود نوشت میں مظلومیت ڈالنے کیلیے آپ...
  3. محمد وارث

    شاہ است حسین

    (احمد ندیم قاسمی) لب پر شہدا کے تذکرے ہیں لفظوں کے چراغ جل رہے ہیں جن پہ گزری ہے ان سے پوچھو ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں میدان کا دل دہک رہا ہے دریاؤں کے ہونٹ جل رہے ہیں کرنیں ہیں کہ بڑھ رہے ہیں نیزے جھونکے ہیں کہ شعلے چل رہے ہیں پانی نہ ملا تو آنسوؤں سے چُلو بچوں کے بھر دیئے ہیں آثار...
  4. محمد وارث

    شاہ است حسین

    (محمد علی جوہر) بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے کربلا ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی بہار ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے کربلا روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ حیات جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے کربلا جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں اُسے سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے کربلا مطلب...
  5. محمد وارث

    شاہ است حسین

    امام حسین ۔ واصف علی واصف السّلام اے نُورِ اوّل کے نشاں السّلام اے راز دارِ کُن فکاں السّلام اے داستانِ بے کسی السّلام اے چارہ سازِ بے کساں السّلام اے دستِ حق، باطل شکن السّلام اے تاجدارِ ہر زماں السّلام اے رہبرِ علمِ لَدُن السّلام اے افتخارِ عارفاں السّلام اے راحتِ دوشِ نبی السّلام...
  6. محمد وارث

    شاہ است حسین

    (حسرت موہانی) امامِ برحقِ اہلِ رضا سلام علیک شہیدِ معرکۂ کربلا سلام علیک کلِ مرادِ ولایت حسین ابنِ علی تتمۂ شرفِ مصطفٰی سلام علیک ثبوت یہ ہے کہ نُورِ شہادتِ کُبرٰی تری جبیں سے نمایاں ہوا، سلام علیک عبث ہے اور کہیں راہِ صبر و حق کی تلاش تری مثال ہے جب رہنما، سلام علیک ترے طفیل مِیں،...
  7. محمد وارث

    شاہ است حسین

    سلام ۔ میرزا اسد اللہ خان غالب سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُس کو تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش ہے؟ کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی؟ کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کا اگر کہیں...
  8. محمد وارث

    شاہ است حسین

    سب سے پہلے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کی مشہور و معروف فارسی رباعی پیشِ خدمت ہے، اور اسی رباعی سے عنوان لینے کی سعادت حاصل کی ہے۔ شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین دیں است حُسین، دیں پناہ است حُسین سر داد نداد دست در دستِ یزید حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین ۔
  9. محمد وارث

    شاہ است حسین

    فہرست 1 ۔ فارسی رباعی ۔ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ 2 ۔ سلام ۔ میرزا اسد اللہ خان غالب 3 ۔ امامِ برحقِ اہلِ رضا سلام علیک ۔ حسرت موہانی 4 ۔ امام حُسین ۔ واصف علی واصف 5 ۔ بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا ۔ محمد علی جوہر 6 ۔ لب پر شہدا کے تذکرے ہیں ۔ احمد ندیم قاسمی 7 ۔ مسدس ۔...
  10. محمد وارث

    شاہ است حسین

    حرفِ آغاز سید الشہدا، سبطِ نبی (ص) ، فرزندِ علی (ع)، امامِ عالی مقام، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت بھرا سلام کہنا اردو شاعری میں موضوع کے لحاظ سے ایک اہم صنفِ سخن ہے۔ قدیم و جدید اردو شعراء نے بلا تفریقِ مذہب و ملت و عقیدہ، امام عالی مقام کے حضور میں نذرانۂ عقیدت پیش کیے...
  11. محمد وارث

    شاہ است حسین

    شاہ است حُسین (امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) ۔
  12. محمد وارث

    غزل

    غم چھیڑتا ہے سازِ رگِ جاں کبھی کبھی ہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھی ہم بیکسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی (قابل اجمیری)
  13. محمد وارث

    خدا

    گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے (ناصر کاظمی)
  14. محمد وارث

    دریا

    زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیں دریا ہی بدل لیتے ہیں رستہ، اسے کہنا کچھ لوگ سفر کے لیے موزوں نہیں ہوتے کچھ راستے کٹتے نہیں تنہا، اسے کہنا (سروَر مجاز)
  15. محمد وارث

    غم

    مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے (کاظمی)
  16. محمد وارث

    پیش کرتی ہے عجب حسن کا معیار غزل - شبنم رومانی

    معلومات کے لیے بہت شکریہ آپ کا فاتح صاحب۔ تو گویا موصوف کا قلمی نام بھی "انجم رومانی" اور "روحی کنجاہی" کے قبیل میں سے ہے۔
  17. محمد وارث

    آج کا شعر

    ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہر اے درد آ کے بیعتِ دستِ سبو کریں
  18. محمد وارث

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں

    نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لٹا دیا جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا (فیض)
  19. محمد وارث

    دیئے گئے لفظ پر شاعری

    جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوق اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے چمن
  20. محمد وارث

    جنت سے ایک خط!

    آج تو ماشاءاللہ، جنت سے دو دو خط بیک وقت موصول ہوگئے۔ سوچ رہا ہوں کسی دن جہنم سے ایک آدھ خط آگیا تو کیا ہوگا۔;)
Top