یہ تو آپ نے افسوسناک خبر سنائی مغل صاحب۔ آپکے مضمون کا یقیناً مجھے بھی انتظار رہے گا۔
اور اب تو اپنے فرخ صاحب کو غزل حاصل کرنے کیلیئے عالمِ بالا جانا پڑے گا، لیکن پھر فرخ صاحب سے غزل کون حاصل کرے گا۔ ;)
شکریہ فرخ صاحب، اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی، آپ ضرور حاصل کریں یہ غزل اور پھر پوسٹ بھی کر دیں۔ میرے پاس واقعی غزل نہیں ہے اور اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چند ایک شعرائے کرام کو چھوڑ کر میرے پاس کسی بھی بقیدِ حیات شاعر کا کلام نہیں ہے ;)
شکریہ خلیفہ صاحب
فرخ صاحب، شاید قانون یہ نہیں ہے یعنی یہ تاریخِ اشاعت کے ساتھ منسلک نہیں ہے، بلکہ مصنف کی موت کے ساتھ منسلک ہے یعنی کسی مصنف کی وفات کے پچاس سال بعد اسکا سارا کام کاپی رائٹ فری ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ احمد ندیم قاسمی کا سارا کام ابھی کاپی رائٹس میں ہے جبکہ انکی پہلی کتاب کوئی ساٹھ، ستر سال پہلے...
پہلی بات ہی آخری تھی از منیر نیازی
پہلی بات ہی آخری تھی
اس سے آگے بڑھی نہیں
ڈری ہوئی کوئی بیل تھی جیسے
پورے گھر پہ چڑھی نہیں
ڈر ہی کیا تھا کہہ دینے میں
کھل کر بات جو دل میں تھی
آس پاس کوئی اور نہیں تھا
شام تھی نئی محبت کی
ایک جھجک سی ساتھ رہی کیوں
قرب کی ساعتِ حیراں میں
حد سے آگے بڑھنے کی
پھیل...
اک خلش کو حاصلِ عمرِ رواں رہنے دیا
جان کر ہم نے انھیں نا مہرباں رہنے دیا
آرزوِ قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے
فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا
کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے
عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا
اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے
چن لیا ہم نے تمھیں سارا جہاں رہنے دیا...
زود پشیماں از پروین شاکر
گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہ
دور دیس سے
چمکیلے مُشکی گھوڑے پر ہوا سے باتیں کرتا
جگر جگر کرتی تلوار سے جنگل کاٹتا
دروازے سے لپٹی بیلیں پرے ہٹاتا
جنگل کی بانہوں میں جکڑے محل کے ہاتھ چھڑاتا
جب اندر آیا تو دیکھا
شہزادی کے جسم کی ساری سوئیاں زنگ آلودہ تھیں
رستہ دیکھنے...
شکریہ فاتح صاحب۔
آپ نے بجا کہا، یہ شعر میں نے بھی سن رکھا تھا لیکن نہ اس کے خالق کا علم تھا اور نہ ہی یہ غزل کبھی پڑھی تھی بس ایک کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے سامنے آ گئی۔ سبطِ علی صبا کی ایک اور غزل پوسٹ کرونگا انشاءاللہ۔
بہت شکریہ فاتح صاحب خوبصورت کلام شیئر کرنے کیلیئے (معذرت چاہتا ہوں کہ سندھی نہیں آتی اس لیئے داد سندھی میں نہیں دے سکتا)۔
آپ نے کمال کام کیا کہ اردو ترجمہ ساتھ دے دیا۔
بَگو حدیثِ وفا، از تو باوَرست، بَگو
شَوَم فدائے دروغے کہ راست مانندست
(مُلا نُورالدین ظہوری)
(مجھ سے تُو) وفا کی باتیں کر، تیری ہر بات کا مجھے اعتبار ہے، (اسلیئے) کہتا رہ، قربان جاؤں اس جھوٹ پر کہ جو (تیرے منہ سے) سچ کی طرح لگتا ہے۔