غالب، انکے اشعار انکی زبانی سننے کیلیئے، اور ساتھ میں فاتح صاحب اور فرخ صاحب کو مدعو کرونگا۔ اور ہاں چونکہ ایسی دعوتوں میں ہم ایک آدھ مہمان زیادہ بھی کر لیتے ہیں تو اپنے ایک دوست عامر قریشی کو بھی بلا لونگا کہ وہ بھی قتیلِ غالب ہے۔ :)
بہت اچھی نعت ہے حافظ صاحب۔
نظامی صاحب نے پیغام کے ذریعے مجھے اس کی اطلاع فرمائی سو اس کو عروضی حوالے سے دیکھتے ہیں، اسکی بحر متقارب مثمن بنتی ہے جسکا وزن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن ہے۔
حسیں رنگ بھاروں کا مسکن مدینہ
محمد کے پیاروں کا مسکن مدینہ
وزن میں ہے، اسطرح کہ لفظ 'رنگ' میں...
بالکل ہونا چاہیئے، میرے لیئے سب سے دلکش بات یہ ہے کہ سندھی زبان میں علم و ادب اور شاعری کا ایک وسیع خزانہ موجود ہے، شاید اسی طرح کچھ ہمارے ہاتھ بھی لگ جائے۔
برادرم، ایک ہاؤس وائف کا پڑھا لکھا ہونا فی زمانہ انتہائی بلکہ اشد ضروری ہے، ایک بچے کی اولین تربیت گاہ آغوشِ مادر ہوتی ہے اور ایک ماں ہی اپنے بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھتی ہے، مولانا رومی نے کیا خوب کہا ہے:
خشتِ اوّل چو نہَد معمار کج
تا ثرّیا می روَد دیوار کج
(جب کوئی معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی...
ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے
ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئینے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے
میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے
لوگوں کی چادروں پہ بناتی...
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں
وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا
کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا
دلوں کی بات بدن کی زباں سے کہہ دیتے
یہ چاہتے تھے مگر دل ادھر نہیں آیا
عجیب ہی تھا...
حضور ان "کچھ خاص ملنے والوں" میں سے کسی کو "خاص الخاص" بنا ہی لیں، یہ نہ ہو کہ مزید کچھ عرصہ بعد یہی "خاص" جن کو آپ مطلع سناتے ہیں آپ کو ہی مقطع سنانا شروع کر دیں:
مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر
اے حضرتِ من، تم نے دل بھی نہ لگا جانا ;)
حاصلم زیں مزرعِ بے بر نمی دانم چہ شُد
خاک بودم، خوں شدم، دیگر نمی دانم چہ شُد
اس بے ثمر کھیتی (دنیا) سے نہیں جانتا مجھے کیا حاصل ہوا، خاک تھا، خوں ہو گیا اور اسکے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ کیا ہوا۔
دی من و صوفی بہ درسِ معرفت پرداختیم
از رقم گم کرد و من دفتر نمی دانم چہ شُد
کل (روزِ ازل؟) میں...