بجا کہا آپ نے، غالب کی خوبصورت غزل "یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا" بھی اسی بحر میں ہے اور فیض نے مصحفی کے ساتھ ساتھ غالب کی غزل کا شعر بھی استعمال کیا ہے اپنی نظم "دلِ من مسافرِ من" میں۔
شکریہ اعجاز صاحب۔
بحر منسرح مثمن مطوی منحور اتنی نا مانوس بحر بھی نہیں ہے اور کافی کلام مل جاتا ہے اس میں۔ چراغِ سخن کا صحیح ذکر کیا ہے ذکاء صاحب، میں نے یہ بحر اور یہ زحاف (نحر) اس کتاب میں دیکھا ہے بلکہ اسکا ذکر بحر الفصاحت میں بھی ہے۔
اس بحر کا وزن
مُفتَعِلُن فاعلات مُفتَعِلُن فع ہے۔...
شکریہ آپ کا۔
شکریہ زونی۔
غلام علی نے بھی بہت اچھی گائی ہے یہ غزل۔ نوجہاں کی غزل ہارڈ ڈسک میں تھی، غلام علی کی کسی سی ڈی میں ہے، ڈھونڈتا ہوں، ملی تو انشاءاللہ ضرور اپ لوڈ کرونگا۔
قبلہ اب مروت میں کچھ لکھ تو ضرور دونگا کہ آپ نے یقیناً یہ بات ازراہِ محبت لکھی ہے ورنہ محفل پر تو اب "باقاعدہ فرمائشیں" ہو رہی ہیں کہ 'ہماری تعریف کرو' :)
اس سوال کا بہترین حل تو یہ ہے کہ آپ بھی ہیٹ پہن کر ایک تصویر لگا لیں اوتار میں ;)
دل خاکِ سرِ کوئے وفا شُد، چہ بجا شُد
سر در رہِ تیغِ تو فدا شُد، چہ بجا شُد
(عبدالقادر بیدل)
(ہمارا) دل، کوئے وفا کی خاک ہوگیا، کیا خوب ہوا، اور سر تیری راہ میں تیری تلوار پر فدا ہوگیا، کیا خوب ہوا۔
مجھ کو نہیں ہے دل میں ترے راہ، کیا کروں
پر بے اثر ہے عشق مرا، آہ کیا کروں
سُن کر ہزار شکل مرا حال، یوں کہا
تُو تو کسی طرح نہیں دل خواہ، کیا کروں
(مرزا رفیع سودا)
ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا
تجھے کس نے روک رکھّا، ترے جی میں کیا یہ آئی
کہ گیا تو بھول ظالم، اِدھر التفات کرنا
ہوئی تنگ اس کی بازی مری چال سے، تو رخ پھیر
وہ یہ ہمدموں سے بولا، کوئی اس سے مات کرنا
یہ زمانہ وہ ہے جس میں، ہیں بزرگ و خورد...