شکریہ فرحت اور زونی۔
زونی اس کہانی کا کوئی دوسرا حصہ نہیں ہے :)
والد صاحب مرحوم مجھے بہت شریف آدمی سمجھتے تھے اور اس کتب بینی کی عادت کے علاوہ کم ہی مجھ سے نالاں رہے، مجھے پورا یقین ہے جب انہیں علم ہوا ہوگا کہ ڈاک ٹکٹیں کم ہیں تو انہوں نے سوچا ہوگا کہ انہوں نے خود ہی کہیں ادھر ادھر رکھ دیں...