یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں
اور مرضیِ جانانہ کہ پیمانہ پیوں
تُو بھی ہے عزیز، خاطرِ ساقی بھی
حیراں ہوں کہ پھر بادہ پیوں یا نہ پیوں
(مومن خان مومن)
یہ فیض کا اعجاز ہے خوبصورت انداز سے دو مشہور شعروں کو اپنی نظم میں استعمال کیا ہے اور بھی بحر کو آدھا کر کے۔ اور مصحفی کے شعر کو کیا خوب کر دیا ہے فیض نے
"سر کوئے ناشنایاں" ہم دن سے رات کرنا
واہ واہ واہ
خنجر بمیاں، تیغ بکف، چیں بہ جبیں باش
خوں ریز و جفا پیشہ کن و بر سرِ کِیں باش
(آتشی قندھاری)
خنجر میان میں، تلوار ہاتھ میں، اور پیشانی پر تیوریاں ڈال، خون بہانے والا اور جفا کار بن (اور ان سب تیاریوں کے بعد) کِیں (بغض، کینہ، عداوت) سے بر سرِ پیکار ہو جا (جنگ کر)۔