نگارا اوّلیں گامے کہ بر دارم بہ ہر راہم
ترا گویم، ترا پویم، ترا جویم، ترا خواہم
(محمد رضا عشقی)
اے میرے محبوب، میں کسی بھی راہ پر جب بھی پہلا قدم اٹھاتا ہوں، تو تیری گفتگو کرتے ہوئے، تری تلاش کرتے ہوئے، تری جستجو کرتے ہوئے، تری چاہت میں ہی اٹھاتا ہوں۔
اللہ تعالٰی جی آپ کو لمبی عمر دیں اور پھر آپ ادھر آ کر خود ہی یہ پڑھنا بھی نصیب کریں :grin:
قبلہ مارنے کی عمر تو آپ کی ہے، مرے تو ہم ہوئے ہیں کب کے، اسکی تو کئی گواہیاں بھی آپ کو مل سکتی ہیں ;)
بے تکلفی کیلیئے معذرت خواہ ہوں جناب ابنِ حسن صاحب، لیکن آپ کی انتہائی "محتاط روی" کے باوجود آپ کے جملے میں 'شیطان اور شیرے' کی انتہائی 'مٹھاس' بھری ترکیب و تلمیح سے قبلہ و کعبہ، خلد آشیانی مرزا نوشہ کا ایک شعر یاد آ گیا:
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
گرفتَم سہل سوزِ عشق را اوّل، نَدانَستَم
کہ صد دریاے آتش از شرارے می شوَد پیدا
میں نے اوّل اوّل سوزِ عشق کو آسان جانا لیکن یہ نہ جانا کہ (اس ایک) شرارے (چنگاری) سے آگ کے سو سو دریا جنم لیتے ہیں۔
من آں وحشی غزَالَم دامنِ صحراے امکاں را
کہ می لرزَم ز ہر جانب غبارے می شوَد پیدا
میں وہ...
بہت خوبصورت بات کہی محترم آپ نے، اسی بات کے دو اور رخ
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
حضرت اسد اللہ خان غالب (رح)
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر، جزا کی تمنّا بھی چھوڑ دے
حضرت علامہ محمد اقبال (رح)
دریں زمانہ رفیقے کہ خالی از خلل است
صراحیٔ مےِ ناب و سفینۂ غزل است
(حافظ شیرازی)
اس زمانے میں اگر کوئی ساتھی خلل کے بغیر ہے (نقصان دہ نہیں ہے) تو وہ خالص شراب کی صراحی اور غزلوں کی کتاب ہے۔