یہ سارا فتور 'دیوتا' کا اور اسکے مصنف کا پھیلایا ہوا ہے، 'کمرشل ازم' نے نوجوانوں کو کیسے کیسے خواب دے دیے۔
جب کبھی میں میں اسے پڑھا کرتا تھا تو سوچتا تھا کہ ٹیلی پیتھی سیکھ کر کیا کیا کرونگا، ہائے ہائے مار ڈالا، کیا کیا یاد آ گیا، اُف۔ :)
'نوجوانوں' سے استدعا ہے کہ 'دیوتا' بے شک پڑھتے رہیں...