روز دیکھا ہے
روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہےکہ تم میرے ہو ، میرے ہو نا
میں تو اک کانچ سے دریا میں بہی جاتی ہوں
کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا
میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا
میری تنہائیاں چپکے سے سجا دو آکر
اک غزل تم بھی مرے نام...