بہت شکریہ نوید صاحب آپ نے اس خاکسار کی فرمائش پر یہ خوبصورت غزل پوسٹ کر دی، لا جواب غزل ہے، اور بہت جاندار اشعار ہیں:
دستکیں دیتا ہے پیہم مری شریانوں میں
ایک چشمہ کہ جو پتھر سے ابلنا چاہے
مجھ کو منظور ہے وہ سلسلۂ سنگِ گراں
کوہکن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے
کہہ رہی ہے یہ زمستاں کی شبِ چار دہم...