آج صبح پھر میں نے اپنے آپ کو بستر میں سے نکلنے پر مجبور کیا، یہ کارنامہ سہی لیکن اتنا بڑا نہیں، اس سے بڑا کارنامہ جو میں روز انجام دیتا ہوں وہ یہ کہ خود کو بستر سے نکال کر دفتر بھی پہنچا لیتا ہوں۔ :)
درست فرمایا آپ نے شمشاد بھائی، پنجاب میں بھی نہ صرف بڑے بھائی کیلیے بلکہ بزرگوں کیلیے بھی یہ لفظ مستعمل ہے، میرے نانا مرحوم کو انکی ساری اولاد یعنی میری والدہ، ماموں، خالائیں لالہ جی کہا کرتے تھے۔
لیکن اب شاید اس کا رواج کم ہو گیا ہے۔