نہ جی ۔۔۔ خوش فہمی ہے آپ کی۔
ہمارے منتر نے کام دکھایا ۔
جنتر ، منتر ، دھاگے شاگے ، جادُو ٹونے والوں نے
تیری خاطر کیا کیا سیکھا ، تجھ کو کھونے والوں نے۔
روح تک چھید ہوئے آنکھ کے فرمائے ہوئے
سینے کچھ اور پھٹے سانس کے برمائے ہوئے
جس میں سرمائے کو سرمایہ سمجھ بیٹھے لوگ
اسی بیوپار میں غارت سبھی سرمائے ہوئے
راحیلؔ فاروق
قیامت