18 بندے کھان وچ ای مدد کرن لئی آن دے۔۔۔ تہانوںملا کے 19 ہو گئے۔ اور ادھر آس پاس میں دو گھروں میں سموسے بھجنے (یہاں کے مقامی لوگ سموسے پسند کرنے لگے ہیں)
آپ نے تو طوطے چھوڑے تھے نا چھت پر پنجرہ لے جا کر۔۔۔۔ پھر وہ کبوتر کیسے بن گئے؟ اب گتو مارے فکر کے ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے ہیں ( اصلی والے تو کبھی نہ اڑائیں)
بیچارے۔۔۔ ہمارے بھی کھاتے ہیں ہاتھ پر رکھ کر کھانا۔25 ہیں ہمارے پاس۔ آج تو پنجرے کا دروازہ کھول دیا کہ جاؤ جی لو اپنی زندگی۔ (بس چھت پر نہیں لے کر گئے انھیں)
ایک دیوانہ یہ کہتے ہوئے ہنستا جاتا
کاش منزل سے بھی آگے کوئی رستا جاتا
اے میرے ابر گریزاں مری آنکھوں کی طرح
گر برسنا ہی تجھے تھا تو برستا جاتا
احمد فراز