نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

    لوگ پتھر کے تھے فریاد کہاں تک کرتے دل کے ویرانے ہم آباد کہاں تک کرتے راشد طراز آباد
  2. گُلِ یاسمیں

    کیمرے کی آنکھوں دیکھے مناظر

    پتہ نہہں پھر کیا مسئلہ ہے۔
  3. گُلِ یاسمیں

    میرے پسندیدہ اشعار

    جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا آفتاب اقبال شمیم
  4. گُلِ یاسمیں

    دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

    سنو ! اے چاند سی گڑیا اب اس دور کے اندر کوئی مجنوں نہیں ہوتا قدم دو چار چلنے سے سفر سانجھا نہیں ہوتا تو ان بیکار سوچوں پر ،سنو ! رونے کا ڈر کیسا جسے پایا نہیں تم نے، اسے کھونے کا ڈر کیسا سانجھا
  5. گُلِ یاسمیں

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ویسے آپس کی بات ہے اگر کوئی سنے تو بتائیں نا۔
  6. گُلِ یاسمیں

    شاہد رعنا گفتگو دھاگہ

    زینیبار ۔۔۔ زینیبار۔۔۔ ہم کیا کریں ۔ کون سے صفحات لکھیں۔۔۔ ہمیں کام دیا جائے محمد عبدالرؤوف
  7. گُلِ یاسمیں

    ہاں نا۔۔۔۔

    ہاں نا۔۔۔۔
  8. گُلِ یاسمیں

    شاہد رعنا گفتگو دھاگہ

    آخری دو صفحات میں دیگر تصنیفات کا ذکر ہے، معلوم نہیں کہ وہ بھی لکھنی ہیں یا نہیں۔ اگر لکھنے ہیں تو بتا دیں، ہم ابھی لکھے دیتے ہیں۔
  9. گُلِ یاسمیں

    شاہد رعنا گفتگو دھاگہ

    کل صفحے ۔۔۔۔۔۔۔196 تقسیم شدہ صفحے ۔۔۔196 مکمل صفحے ۔۔۔۔۔۔۔ 194 ٫97 98فیصد کام مکمل ہوا ماشاءاللہ الحمد للہ ہمارا کام مکمل ہوا۔ 11 اپریل تا 19 اپریل
  10. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 191 مرزا صاحب چوتھے شعر پر لوٹ پوٹ گئے اور سب مردوں کو خوب لطف آیا۔ نواب صاحب نے شام ہی کو جانا چاہا تھا مگر کون جانے دیتا تھا۔ رات کے بارہ بجے تک یہ لطف رہا۔ اور صبح کو نواب صاحب بخیر و خوبی دہلی سدھارے۔ ہم نے چلتے وقت اصرار کیا کہ واپسی میں دو چار دن ٹہرئیے گا، انھوں نے ہاں کر لی۔...
  11. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 186 تھے کہ نواب صاحب آ گئے اور میر صاحب کو بھی ساتھ لے آئے۔ نواب سے بغلگیر ہو کر ملے۔ اور مزاج پرسی کی۔ میں نے دیکھا کہ نواب کو میر صاحب کے یہاں ہونے پر تعجب ہے اور ان کا جی چاہتا ہے کہ یہ معمہ حل ہو جائے۔ اس لئے میں نے پیش قدمی کر کے کہا " نواب صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سمجھے" نواب: بہت دل...
  12. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 181 اس دو برس میں بیسیوں ایسے رسالے پڑھے ہیں کہ ایسے ویسے کو تو باتوں باتوں میں آڑے ہاتھوں لیتا ہوں۔ڈپٹی صاحب مجھ پر اتنا اعتماد کریں گے کہ میں تخلیہ میں بھی ان کے پاس جانے لگوں گا۔ مرزا صاحب: اس کا بندوبست میں کر دوں گا۔ یہ کہہ کر انھوں نے ڈپٹی صاحب کو رقعہ لکھا اور وہ فوراً آ گئے۔...
  13. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 176 ڈپٹی صاحب کو نہیں آیا۔ اور یہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ کسی تدبیر سے مکیرے ارادہ میں لغزش آ سکتی ہے۔ مجھے یہ بات بہت ناگوار گزری۔ مگر جیسے بھی دل کڑا کر کے ان سے کہہ دیا کہ آپ ناحق مجھ سے اس قسم کا مذاق کرت ہیں ۔ میں تو آپ کو بنزلہ بھائی کے سمجھتی ہوں۔ وہ کٹ گئے اور پھر کبھی مجھ سے اس...
  14. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 171 میز کرسی وغیرہ صاف کروائی اور خود بھی صاف ستھرے کپڑے پہن کر بیٹھ گئی۔ دل دہکڑ دہکڑ کرتا تھا کہ یا اللہ یہ کوں آتی ہیں۔ دیکھئے کیا کیا پوچھیں۔ پھر صاحب سے کیا کای کہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو مجھ سے ناخوش ہو کر صاحب کو بھڑکا دیں اور وہ مرزا صاحب سے ناراض ہوں۔ کبھی دل ہی دل میں دعا مانگتی...
  15. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 166 انگریز: نہیں یہاں بھی بتانا ہو گا۔ میں: حضور میں یہ چاہتی ہوں کہ اس روپے سے دو کام ہوں۔ ایک تو یہ کہ حرام کے بچے جو فاحشہ عورتیں بدنامی کے ڈر کے مارے دریا میں ڈال دیتی ہیں۔ یا کہیں ادھر ادھر پھینکوا دیتی ہیں۔ ان کا ایسا بندوبست ہو جائے کہ ان کی جان نہ جائے اور محتاج خانے میں ان کی...
  16. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 161 نواب: میں مرتے دم تک جس قابل ہوں تمہاری خدمت کو موجود ہوں۔ میں: یہ آپ کی عنایت ہے۔ مجھے ہمیشہ سے اس کا یقین ہے مگر میری بات کا جواب دو میں تمہیں کیا سمجھوں۔ نواب: سمجھو کیا ایک نوکر سمجھو۔ میں : اسی شخص کو نوکر سمجھوں جس کے لئے گھنٹوں روئی ہوں۔ جس کی محبت کی سزا میں اماں کی ماریں...
  17. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 156 تیسرے دن مرزا صاحب ان مولوی صاحب اور اپنے چند دوستوں کو لے آئے۔ اور مجھے پردہ میں بٹھا کر اور تار تار زیور اتروا کر اور مرزا صاحب کا لایا ہوا حلال کا جوڑا پہنا کر پہلے مجھ سے ایمان کی تصدیق اور توبہ کرائی اور پھر نکاح پڑھا کر مجھے حرام کی دلدل سے نکالا اور حلال کے زینے پر چڑھایا ،...
  18. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 151 میں نے آپ کو یہی لکھا تھا نا کہ مجھے آپ کا خیال رہتا ہے یہ گتو نلہیں کہا تھا کہ للہ آپ بھی میرا خیال رکھا کیجئیے ۔ پھر نہ معلوم کہ آپ کیوں دور کرنے لگیں۔ آپ مجھے یہی سزا دے سکتی تھیں کہ خط و کتابت بند کر دیں۔ اسی کی دھمکی بھی دی تھی ، مجھے بھی دیکھنا تھا کہ مر تو نہیں جاتا۔یہ کہہ...
  19. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 146 آ گئی۔ اپنی بیکسی پر رویا کرتی تھی اور موت کی دعائیں مانگتی تھی۔ خدا کی قدرت وہی خورشید جس کا میدا شہاب رنگ لوگوں کی آنکھوں میں کُھبا جاتا تھا اور جو کتنی جلدی نواب کی نظر چڑھ گئی تھی اب نکٹی خورشید، خن خنی، جھنجی کوڑی اور خبر نہیں کن کن ناموں سے مشہور ہو گئی۔ خورشید کے مقدمہ میں...
  20. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 141 مٹھائیاں اور سودے منگا دینے کو موجود ہوتے تھے، بھلا گھر کی وہ مصیبت کہاں اٹھ سکتی تھی، یہ بات انھیں بھی ناگوار گزری، دوسرے ان کی بیوی نے صاف کہہ دیا، کہ مجھ سے یہ نہیں ہو گا کہ ان کو پکی پکائی کھلاؤں ۔ ان بن رہنے لگی، میں نے نکلنے کی تدبیریں سوچیں، انھوں نے بندش کی ، اس پر مجھے...
Top