نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    کوئی دوا دارو مفتی صاحب :) کہیں نقصان نہ اٹھا بیٹھیں ہم پاگل ہو کر۔ لیکن پاگل تو دوسروں کو نقصان نہیں پہنچا دیتے؟ نہیں ہمیں نارمل ہی رہنا ہے بس۔ جیسے ابھی ہیں۔:rollingonthefloor:
  2. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ہاں جی مل جاتا سب کچھ۔ ڈنٹونک بھی۔
  3. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ابھی بھی انتظار؟ آخر یہ انتظار صدیوں ہی محیط ہے کیا؟ بچہ انتظار کے ہاتھوں کہیں دوسری مرغی کو بھی انڈوں پر نہ بٹھا دے۔۔۔ پھر 21 دن اور کرتا رہے گا انتظار۔
  4. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    شتر مرغ کے فارم کا پوچھ رہے ہیں عاطف بھائی۔
  5. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ضرور کیجئے۔ کسی کو تو وسیلہ بننا ہے نا۔ :battingeyelashes:
  6. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor: اب خدارا ہمیں بندریا مت سمجھ لیجئے گا۔ ہنسنا دور کی بات۔۔۔ مسکرانے میں بھی درد ہے
  7. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    تو کیا چوزوں کے انڈوں سے نکلے کا انتظار بھی نہیں کریں گے؟ اور وہ جو شتر مرغ کا فارم بنانے کا ارادہ تھا۔۔۔ سب ارمان خاک میں مل گئے؟
  8. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    ہمیں تو لگتا ہے کہ چاند پہ جا کر بھی آپ نسوار ہی ڈھونڈتے رہے۔
  9. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    نہیں اس میں برا لگنے کی کیا بات۔ ہم نے سچ میں بولا تھا کہ اب ہمیں مینٹل ہسپتال جانے کی نوبت نہیں آئے گی ان شاء اللہ۔
  10. گُلِ یاسمیں

    بچپن کی حماقتیں

    جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے۔ آپ کو صرف نمک یاد رہا ، ہمیں تو مرچوں کی موجودگی بھی محسوس ہوئی اس مرہم میں۔
  11. گُلِ یاسمیں

    بچپن کی حماقتیں

    کسی ایک کے آرام سے رہنے کے لئے دوسرے کا بے آرام ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پین کلر بھی تھوڑا ٹائم ہی دور رکھ پاتے ہیں محفل کو بے آرام کرنے سے۔
  12. گُلِ یاسمیں

    بچپن کی حماقتیں

    اسی لئے تو موءدبانہ گذارش ہے کہ خبر رکھا کریں۔ سارا زور حال کے بے حال ہونے پہ ہی ہے۔ اس کا خیال نہیں جس کا حال بے حال ہوا۔ اللہ پاک دشمنوں کو بھی ایسا بے حال نہ کرے۔ واہ واہ کہنے والے اس وقت کیسے ہر دم آہ آہ کئے جا رہے ہیں ۔۔۔ اندازہ کیجئے ۔
  13. گُلِ یاسمیں

    بچپن کی حماقتیں

    جائے وقوعہ پر۔ لوکیشن بھیجیں کیا؟
  14. گُلِ یاسمیں

    بچپن کی حماقتیں

    سرگوشی تو ہم نے کان اور آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے سُنی۔ اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ کلی شفا ہی تھا۔ ورنہ آپ تو نمک کے ساتھ مرچیں بھی چھڑک دیتے۔ :smile-big:
  15. گُلِ یاسمیں

    بچپن کی حماقتیں

    ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوتا تو ہم بھی مقابلے پہ تن جاتے اور دشمن کے دانت کھٹے کر دیتے۔ یہ تو ہماری بے خیالی نے رنگ دکھایا اور گھائل ہم کو بنایا۔
  16. گُلِ یاسمیں

    چمن تم سے عبارت ہے

    ہے نا وہ بھی۔ صبح دکھاتے ہیں ان شاء اللہ۔ ابھی باہر اندھیرا۔ پچھلے سال کی بہت سی تصاویر دوسرے موبائل میں ہیں۔ ابھی جو ایک فولڈر میں تھیں، وہ شئیر کر دیں۔ گلِ یاسمین کے علاوہ کالا گلاب بھی ہے ، کاسنی اور پیلا بھی۔ لیکن ملی ہی نہیں تصاویر۔
  17. گُلِ یاسمیں

    بیگمات اودھ کے خطوط گفتگو دھاگہ

    کُل صفحات۔۔۔۔ : 148 تقسیم شدہ صفحات : 148 مکمل۔۔۔۔۔۔۔۔: 90 کام مکمل ہوا۔۔۔: 60،81 فیصد
  18. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 86 ہوں رنجِ جدائی سے مکدر اختر رات دن تیرے تصور میں بسر کرتی ہوں اس دلِ زار کو سمجھاؤں میں کیونکر اختر چُھٹ گیا آب و خورش صدمہ ء ہجراں سے مرا کیا کہوں تجھ سے کہ جیتی ہوں میں کیونکر اختر تجھ سلیمانِ جہاں سے جو محبت ہے مجھے طائرِ دل کو بناتی ہوں کبوتر اختر سیدھے ہو کر چمنِ دہر میں بارنج و...
  19. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 81 میری محبوبہ نہ آئے گی یقین جانو میری اپنے ہاتھوں جان جائیگی۔ دردِ دل کچھ کہا نہیں جاتا آہ چُپ بھی رہا نہیں جاتا آخرش مہدی نے میرے قدموں پر سر رکھا اور وعدہ کر کے گیا۔ حضور جلد پری وش کو حاضر کرتا ہوں۔ یہ سنتے ہی دل باغ باغ ہو گیا۔ کیوں آج سماتا نہین سینہ میں خوشی سے پہنچا ہے مگر دل...
  20. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب بیگمات اودھ کے خطوط

    صفحہ 76 اس کی خوبی چشم اس شعر کی مصداق تھی؎ در حسن دو چیز است بلائے دل و دیدہ چشمِ سیہ و گوشہء ابروئے کنندہ اس کا رخ کیا تھا آئینہ پیش رو نہ و سیرِ بہشت کُن بایں رُخ شگفتہ گلستاں چہ میکنی نگاہ چار ہوتے ہی عجب حال سے بے حال ہوا۔ ہم چشموں کی صحبت سے مجبور کچھ کہہ سن نہ سکا۔ البتہ دونوں ہاتھوں سے...
Top