صفحہ 106
پھر خوب سیلِ اشک آنکھوں سے جاری ہونے لگے۔ سرفراز پری سے مخاطب ہو کر کہا تجھ کو خدا کا واسطہ ہے مری تمام راحتیں و آرام ترے ہاتھ میں ہیں۔ میری ہمدردیاں اور نوازشات ترے ساتھ ہیں۔ ظالم اظلم تمہیں کب قید کیا۔ جس وقت جس بات کو تو نے چاہا اسی وقت سر انجام اور تری مرضی کا عہد کیا۔
جگرِ عاشق دل...