ہم سے پہلے کبھی یہ مرتبہء دار نہ تھا
عشق رُسوا تھا مگر یوں سرِ بازار نہ تھا
آج تو خیر ستارے بھی ہیں ویرانے بھی
ہم پہ وہ رات بھی گزری ہے کہ غمخوار نہ تھا
بالکل سچ۔۔۔ بینائی پہ ایسا اثر ہوا ہے کہ پانچ ہزار ایک سو دو کلومیٹر کے فاصلے پر بیٹھے آپ ہمیں اس صفائی سے دکھائی دے رہے ہیں جیسے سامنے موجود ہوں۔
یقین نہیں تو معلوم کیجئیے کہ یہ جناتی صفات آپ میں ہیں یا ہم میں۔
ڈھیروں کلیاں بنی ہیں گلابوں کی ٹہنیوں پر۔۔ ابھی بنائی تصویر۔
نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے گلاب ہیں
یہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے
بشیر بدر