یہ عشق ہے جسے پرواہ حسن کی بھی نہیں
کہ شمع روتی ہے اور سو رہے ہیں پروانے
جہاں سے عشق نے رودادِ غم کو چھوڑ دیا
شروع میں نے وہاں سے کئے ہیں افسانے
قمر جلالوی
ہماری دشمنی تو تب ہوتی اگر اس سے رقابت کا کوئی واسطہ ہوتا۔
ہمیں تو لگتا ہے کہ آپ ہی کے خواب میں آئے گی آپ کی تمام تر تحقیقات کے انعام کے طور پر۔ سوتے ٹائم آیت الکرسی پڑھ کر خود پر پھونک لیجئے گا ضرور۔
کانٹے نہیں ہیں، اخروٹ کا درخت ہے، اس کی شاخیں ہیں جن پر پتے نکل رہے ہیں۔ مینڈک درخت پر کیسے؟ آسمان کے رخ پہ بنی تصویر ہے ، چاند بھی ہے۔
ٹرکوائز بھتنا ۔۔۔ وہ کیا ہوتے ہیں؟
مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے
کہ قفس میں تنگ آ کر مرے اور ہیں ارادے
مرے بعد گر کے بجلی نہ قفس میں دل دکھا دے
مجھے قید کرنے والے مرا آشیاں جلا دے
قمر جلالوی