پھر سے دہرائے دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دو آنکھیں ایک بڑی نعمت کی صورت عطا کی ہیں ان سے لوگ اپنا شہتیر دیکھنے کی بجائے لوگوں کے تنکے کیوں تلاش کرتے ہیں؟
آپ تو انتہا کے سیانے نکلے انتہا بھائی۔
ایک سادہ سا سوال ہم نے بھی کیا ہے لیکن کوئی سنجیدہ ہی نہیں لیتا ہماری بات کو۔
آپ ہی جواب دیجئیے نا۔
اگلے مراسلہ میں پھر سے دیتے ہیں سوال۔
دودھ کی نہر نا؟
ہمیں یہ نہر مطلوب ہے سیما آپا
میں دیر سے ایک در پہ خالی کھڑا ہوا ہوں
کسی کی مصروفیت میں وقفہ نکالنا ہے
مجھے پہاڑوں کو کھودتے دیکھ کیا رہے ہو
کہیں پہنچنا نہیں ہے رستہ نکالنا ہے
لیجئیے بضد ہیں فرقت میں وصل پر تو ہم حاضر
مگر یاد رہے
وہ مان گئے تو وصل کا ہو گا مزہ نصیب
دل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیب
کھائیں گے رحم آپ اگر دل بگڑ گیا
ہو جائے گا ملاپ اگر لڑ گیا نصیب
:rollingonthefloor: