ہمارے ہاں بھروسے کے عجیب معیارات ہیں۔
آنکھیں بند کر کے کسی سے کوئی سودا، کاروبار کر لینے کو بھروسہ کہا جاتا ہے اور اگر آپ کچھ لکھنے اور معائدہ طے کرنے کی بات کر لیں تو سب عجیب نظروں سے دیکھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ اس کو بھروسہ ہی نہیں ہے۔
حالانکہ اللہ کا حکم ہے، کہ جب معاملہ کرو تو لکھ لیا کرو۔...