بہن، تھوڑا سا غور اور کرتیں، وہ تمام شاعری میرے دادا مرحوم کی ہے، جسے خستہ ہوتی ڈائریز اور رجسٹر سے نکال کر کمپیوٹر پر محفوظ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ :)
دادا مرحوم کا قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کو نذرانۂ عقیدت، احبابِ محفل کی خدمت میں پیش ہے۔
قائدِ اعظمؒ (1)
یہ فطرت ہے بشر ہوتا ہے از نسلِ بشر پیدا
یہ قدرت ہے جو تم سا کر دیا اک شیرِ نر پیدا
چمن باقی تو ہوں گے سیکڑوں گل ہائے تر پیدا
یہ دنیا ہے تو ہوں گے سیکڑوں اہلِ بصر پیدا
ہزاروں لاکھوں ہوں گے...
جیسے کچھ شاعر ہوتے ہیں جن سے غلطی سے کوئی ایک آدھ غزل اچھی ہو جاتی ہے، پھر ساری زندگی ہر مشاعرے میں وہی سنا کر داد وصول کرتے رہتے ہیں، میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔
بہت خوب، اور جس طرح روانی سے تمام کہانی کو جوڑا ہے، بلاشبہ پختہ کار لکھاری ہی کر سکتا ہے۔
شعراء کے درمیان ایک غیر شاعر کا تذکرہ کہیں شعراء حضرات پر بھاری نہ پڑ جائے۔ :sneaky:
اینڈرائڈ ایپلیکیشن بنانے کے لیے پروگرامنگ کے بنیادی اصولوں سے آگاہی ضروری ہے۔
اینڈرائڈ ایپ میں جاوا لینگویج استعمال ہوتی ہے۔
کسی بھی ویب کو اینڈرائڈ ایپ میں لایا جا سکتا ہے، اس کے لیے فون گیپ، سانچا وغیرہ جیسے ٹول موجود ہیں، مگر ان کو بھی سیکھنا تو پڑے گا، تھوڑا کم ہی سہی۔
نیٹ پر کبھی کوئی...
بتا رہی ہیں ضیائیں یہاں سے گزرے ہیں
حضور کیا روشِ کہکشاں سے گزرے ہیں
ہوئے ہیں آج وہ عنوانِ داستانِ جمال
وگرنہ یوں تو ہر اِک داستاں سے گزرے ہیں
ہر ایک بزم میں کہتے ہیں فخر سے جبریل
حضور خاص مِرے آشیاں سے گزرے ہیں
ہے مختصر یہی افسانہ شبِ معراج
جہاں سے کوئی نہ گزرا وہاں سے گزرے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
اور رہی تنقید کی بات، تو میری طرف سے بے فکر رہیں۔
میرا نظریہ یہ ہے کہ تنقید کرنے والا ہی خیر خواہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہم میں خامیاں نہیں دیکھنا چاہتا۔ :)
ماشاءاللہ، بہن بہت اچھا لکھا ہے، بہنوں کو تو بھائیوں کی کھچائی کی اجازت ہوتی ہے، آپ نے تو پھر تعریف کی ہے۔
آپ کا حسنِ نظر ہے جو اچھا گمان کیا ہے۔ ورنہ کم گوئی تو یوں ہے کہ
"خاموشیوں پہ بہن" ہماری نہ جائیو
:)