فیس بک پر پڑھا ہے کہ علامہ اقبال کا شعر ہے کچھ اس طرح سے
زمن بر صوفی و ملا سلامے
کہ پیغام خدا گفتند ما را
ولے تاویل شاں د رحیرت انداخت
خدا و جبرائیل و مصطفٰی را
ترجمہ: میں صوفی و ملا (مذہبی پیشوایت) کو سلام پیش کرتا ہوں، کہ وہ خدا کا پیغام ہم تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن جب وہ اس پیغام کی تاویل...