کل ہی فیس بک پر ایک پختون بھائی کی تحریر پڑھی۔ انہوں نے یہ محاورہ اس طرح لکھا ہوا تھا۔ "تربوزے کو دیکھ کر تربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔"
تو ہرگز مایوس نہ ہوں، آپ کی خواہشات ہمارے پختون بھائی پوری کر رہے ہیں۔
اچھے خیالات ہیں خرم بھائی.
ازراہِ تفنن انور مسعودصاحب کا ایک قطعہ پیش کر رہا ہوں. امید ہے برا نہیں مانیں گے.
کربِ کبیرہ
اُسے سوجھے گی نارنگی نہ گاڑی
اِسی تکلیف میں کھویا رہے گا
سُنا دو کوئی نثری نظم اُس کو
کبیرا حشر تک روتا رہے گا