دادا مرحوم کی ایک غزل احباب کے ذوق کی نذر:
خرابِ عشق کیا دل لگی کے پردے میں
یہ دل عدو ہی بنا دوستی کے پردے میں
سمیٹتے ہیں جو زر بے زری کے پردے میں
ہزار عیش کریں مفلسی کے پردے میں
ہزار غم تھے جو اک سر خوشی کے پردے میں
چھلک پڑے ہیں کچھ آنسو ہنسی کے پردے میں
ہے اس کی یاد مرے دل کی ظلمتوں میں...