دادا مرحوم کی ایک غزل احبابِ محفل کے ذوق کی نذر:
نکالو بزم سے تم حاشیہ نشینوں کو
تو ہم بھی جمع کریں پھر تماشہ بینوں کو
سمجھ حقیر نہ تو بوریہ نشینوں کو
اتار لیتے ہیں یہ عرش کے مکینوں کو
کسی طرح بھی وہ اپنا نہ بن سکا اب تک
کہ آزما تو لیا ہم نے سو قرینوں کو
شریکِ سازشِ دریا جو ناخدا بھی رہے
تو...