ایویں صیاد۔۔۔ ہم کوئی بلبل ہیں کیا جو ہمیں وہ اسیر کرنے لگیں؟
پھر تو وہ والی بات ہوتی نا۔۔
"قید میں ہے بلبل صیاد مسکرائے"
اسیر۔۔۔۔ ان معنوں میں نا ۔۔۔ کہ ان کی نظر پڑے تو قدم تھم جائیں۔۔ جانا کچن میں ہو اور بھول جائیں کہ کہاں جانے کا قصد کیا تھا۔۔ ان دیکھی زنجیر میں قید سمجھیں خود کو۔۔۔ محصور...