جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں
دل کے بدلے دردِ دل لیا کرتے ہیں
تنہائی ملتی ہے، محفل نہیں ملتی
راہ ِ محبت میں کبھی منزل نہیں ملتی
دل ٹوٹ جاتا ہے، ناکام ہوتا ہے
الفت میں لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے
کوئی کیا جانے کیوں یہ پروانے
یوں مچلتے ہیں، غم میں جلتے ہیں
آہیں بھر بھر کے دیوانے جیا کرتے ہیں...