وہی تو۔۔۔۔ رُک کر تعریف ہو یا تنقید، سب سننا بھی چاہئیے۔ اس کے بعد تعریف کی الگ ڈھیری بناتے جائیں۔ اور تنقید کی الگ۔ اور جب تنقید کو بنا برا مانے لیں گے تو وہ بھی رویے میں بدلاؤ لا کر تعریف کی ڈھیری ہی میں اضافہ کرے گی۔
میں کوئی جھوٹ بولیا؟
راحل بھائی۔۔۔ کسوٹی کی یاد نہیں آتی کیا؟