اس کی تو سمجھ آ گئی تھی بھائی۔ اور کوشش بھی کی جواب دینے کی۔ مگر معلوم پڑتا ہے کہ سرائیکی والے بندے کو ہماری سرائیکی کی سمجھ نہ آئی اور کوئی نئی زبان ہی ایجاد ہو گئی۔ :rollingonthefloor:
روؤف ادا۔۔ اج میکو چائے نہ ملی ہوئی۔ ایس واسطے دماغ اٹک اٹک کے چلی ویندا۔ مارکیٹ دا گیڑا لا آسوں، چاء بنا پیساں تے فیر سمجھ آنی کہ کہیہ گلاں کریندے تساں لوکی۔
دیکھ لیجئیے بھائی کیا زمانہ آ گیا ہے۔
لیکن وہ سب تو کراچی والے ہونے کے ناتے ایک دوسرے کا رنگ پکڑ رہے ہیں۔ تسی کہیڑا کھاتا کھول کے لڈیاں پاون لگے۔ :unsure: