ہائے ہائے۔۔۔ ایسے ظالم تو ہم کبھی نہ تھے۔
لائیں ساروں کی کرچیاں۔۔ سب کو الفی سے جوڑ دیتے ہیں ۔
ہم نے کون سا چڑ جانا ڈنمارکئیے کہلانے پر۔
حسرتاں ہی رہ جانیاں تُساں نوں سانوں غصہ دلان دیاں۔
داد تو ہم دیتے ہیں آپ کو ۔۔۔ وہ بھی بلا تعداد۔
ہمارے ہاتھ بھلا کیوں کانپتے۔ ہم نے تو یہ کہا کہ جتنا کراچی والوں کی محفل اتنی ہی ہم پنجابیوں کی بھی۔ اس میں رتی برابر بھی تعصب ڈھونڈ کر دکھائیں نا ذرا۔
ختم ہو گیا ہو چائے کا ذکر تو ایک عرض ہماری بھی سُن لیں۔۔۔ آج ایک کپ بھی چائے نہیں ملی ابھی تک۔۔۔ کہاں کل تک صبح سویرے تین مگ سامنے رکھے ہوتے تھے چائے سے بھرے۔