ایسا سوچئیے گا بھی نہیں روؤف بھائی۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ روزمرہ کے سنجیدہ ترین حالات کو سائیڈ پہ رکھ کر محفل میں کچھ وقت گزارتے ہیں اور نئی توانائی کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں۔ ایسے میں چڑچڑا پن دکھا کر ہم نے اپنی ہی انرجی ویسٹ کرنی ہے۔
سینے پہ ثابت مونگ دلے جاتے ہیں ۔
نہیں آنے دیتے ہاتھ۔ تبھی تو منہ کو بھی نہئں آتا کلیجہ۔
بس اپنی اپنی تکنیک ہے کہ کس بات کو کتنا دل پہ لینا ہے ، کتبا دماغ پہ اور کتنا کلیجہ جلانا ہے اپنا۔ ورنہ دنیا کی دو دھاری تلوار جینے دے گی نہ مرنے دے گی۔ :grin:
بس وہی بات نا کہ ہر کسی نے اپنے آزمودہ ٹوٹکے ہی آزمانے ہوتے ہیں۔
دھڑکنیں بھلے بے ترتیب ہوتی رہیں مگر کلیجے کو مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے۔ نہ کسی کو مونگ دلنے دیتے ہیں نہ منہ کو آنے دیتے ہیں۔