ریختہ صفحہ 26
کہ اے سراپا دانائی تیری بدولت راحت بہت پائی۔ اب ولایت کو جاتا ہوں۔ خدا جانے آب و خورش کب لائے۔ کسی طرح دیدار ملکہ میسر آئے۔ بار ے دایہ بر سر رحم آئی۔ میری خبر پہنچائی۔ ملکہ نے نصف شب کو پوشاک بدلی۔ معہ صندوقچہ جواہر نکلی۔ میں نے ایک ضرب شمشیر میں دایہ کو مار کر ڈال دیا۔ ملکہ کو...