بہت خوبصورت انداز تحریر۔۔۔ خوبصورت الفاظ کا چناؤ۔ سچ میں مزا آ گیا۔ یوں لگا جیسے وہیں موجود ہیں۔
قدرت کے خوبصورت نظارے انسان کو اپنے آپ سے ملا دیتے ہیں۔
جب بھی فرصت ملے ایسا ایک آدھ موقع اپنے لیے ضرور ڈھونڈنا چاہیے۔
خاک رہتا میں شفا خانے میں اور کس کے لیے
جو بھی امید تھی سب طاق نسیاں ہو گئیں
نرسیں ایسی تھیں کہ جن کو دیکھ کر جیدی کہے
خاک میں یہ صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہو گئیں
( اطہر خان جیدی)
اب اس سے کوئی بڑھ کے بھی ہو سکتی ہے تکلیف
جائیں نہ ادھر دھیان تو پھر دھیان کدھر جائے
ملتا ہے اگر گوشت تو اچھا نہیں ملتا
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے