اپنا مطلب کھودیتی ہے دل میں رکھی بات
رونا ہے تو کھل کے رو اور جلنا ہے تو،جل
لمحوں کی پہچان یہی ہے، اڑتے جاتے ہیں
آنکھوں کی دہلیز پہ کیسے ٹھہر گیا ، وہ پل
( امجد اسلام امجد)
نہ ربط ہے نہ معانی، کہیں تو کس سے کہیں!
ہم اپنے غم کی کہانی، کہیں تو کس سے کہیں!
سلیں ہیں برف کی سینوں میں اب دلوں کی جگہ
یہ سوز درد نہانی ، کہیں تو کس سے کہیں!
( امجد اسلام امجد)
کتنے جاں سوز مراحل سے گزر کر دل نے
کس قدر پیچ و خم سود و زیاں دیکھے ہیں
کتنے گرداب نظر آئے ہیں دف کے نزدیک
کتنے بھونچال سر آب رواں دیکھے ہیں
( مصطفی زیدی)
کبھی یہ بات بھی سوچی کہ منتظر آنکھیں
غبار رہ گزر میں اجڑ گئی ہو ں گی
نظر سے ٹوٹ چکے ہوں گے خواب کے رشتے
وہ ماہتاب سی نیندیں بچھڑ گئی ہوں گی
( مصطفی زیدی)
منظر کے اردگرد بھی اور آرپار دھند
آئی کہاں سے آنکھ میں یہ بے شمار دھند
کیسے نہ اس کا سارا سفر رائیگاں رہے
جس کاروان شوق کی ہے رہگزار دھند
( امجد اسلام امجد)
سیما آپا اس لڑی میں سارے نقطے ہمارے گلے میں اٹک رہے ہیں اس وقت۔ اس لئے یہاں آ گئے۔
اچھا تو کل خوب سیریں کیں۔ ماشاء اللہ
جی آپا سب کے کلام مکمل ہو گئے۔
بہت مزے کا رہا مشاعرہ۔