شہزاد بھائی۔اقبال نے وضاحت فرمائی تو ہے کہ خون جگر کے بغیر نقوشہائ ناتمام وجود تو پاجاتے ہیں اور نغمہ ہائے خام اور نالہ ہائے نا رسا بھی تشکیل پاجاتے ہیں ۔ لیکن ان نقوش کو اِتمام ، ان نغموں کو پختگی اور ان نالوں کو رسائی کے مقامات بخشنے کے لیے خون جگر لامحالہ جلانا ہی پڑتا ہے۔۔۔
بو علی ۔۔اندر...