کیا تحریر ہے۔ کیا مشاہدہ ہے۔ غضب غضب
کیسے دل مچلتا ہے خواہشات کے لیئے اور کیسے انسان اپنی خواہش پر پاؤں رکھتا ہے۔ اس کرب کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو کبھی اس کیفیت سے گزرا ہو۔ کیسے ہی واقعات دل و دماغ میں تازہ کر گئی ہے یہ تحریر۔ اب ذہن سے اسے محو کرنے میں وقت لگے گا۔