ماشاءاللہ اکمل بھائی۔
اکثر اوقات تیزی رفتاری کی وجہ سے دائمی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔نوجوان نسل میں تیزرفتار ڈرائیو فیشن کا درجہ اختیار کرتی جارہی ہے۔اللہ کریم ہمیں سمجھ بوجھ عطا فرمائیں۔
اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں
اس گلی میں بکھر رہا ہوں میں
جتنا جتنا جھکا رہا ہوں سر
اتنا اتنا ابھر رہا ہوں میں
اک صحیفہ ہوں آسمانوں کا
اور زمیں پر اتر رہا ہوں میں
گردش وقت روکنی ہے مجھے
اس لیے رقص کر رہا ہوں میں
قیس کے بھی قدم نہیں ہیں جہاں
اس جگہ سے گزر رہا ہوں میں
پوچھ لو مجھ سے...
زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر
ایڑیوں تک خوں بہا کر رقص کر
جامۂ خاکی پہ مشت خاک ڈال
خود کو مٹی میں ملا کر رقص کر
اس عبادت کی نہیں کوئی قضا
سر کو سجدے سے اٹھا کر رقص کر
دور ہٹ جا سایۂ محراب سے
دھوپ میں خود کو جلا کر رقص کر
بھول جا سب کچھ مگر تصویر یار
اپنے سینے سے لگا کر رقص کر
توڑ دے سب...
شاعری مجھ کو عجب حال میں لے جاتی ہے
کبھی ماتم کبھی دھمال میں لے جاتی ہے
میں کسی چشم نگہ دار کی حد میں ہوں کہ جو
مجھ کو واپس مرے احوال میں لے جاتی ہے
میری خواہش بڑی تفصیل طلب ہے لیکن
تیری صورت مجھے اجمال میں لے جاتی ہے
میں بچھاتا ہوں مصلیٰ سر محراب نیاز
پھر عبادت مجھے پاتال میں لے جاتی ہے...