لڑی کا عنوان ہے،میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔مگر لڑی میں شامل مراسلوں کو پڑھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم سب ہی غلط ہیں۔اس مراسلے کی دعوت فکر توبہ ،استغفارتھی،مگر ہم اپنے گریبان میں دیکھنے کے بجائے دوسروں کے گریبان پھاڑنے میں لگے ہیں۔الامان و الحفیظ۔
ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے
کچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے
زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کا
ہم آب لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے
پتہ جو ہوتا کہ نکلے گا چاند جیسا کچھ
ہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے
ہمیں یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پر
ہم اس زمیں کی ہتھیلی پہ رنگ کیا...